نئی دہلی 16اگست (آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کے بیشتر تجویز منسوخ کئے جانے کے بعد میڈیا پر لگائی گئی پابندیاں ہٹانے کیلئے دائر درخواست پر کوئی ہدایات دینے سے پہلے’وہ کچھ وقت انتظار کرے گا‘۔ اس سے پہلے مرکز نے عدالت کو مطلع کیا کہ یہ پابندیاں آہستہ آہستہ ہٹائی جا رہی ہیں۔ میڈیا پر لگی پابندیاں ہٹانے کیلئے دائر درخواست پر سماعت کے دوران مرکز نے عدالت سے کہا کہ جموں و کشمیر میں صورت حال میں بہتری آ رہی ہے اور بندشیں آہستہ آہستہ ہٹائی جا رہی ہیں۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبڑے اور جسٹس ایس عبد نذیر کے بنچ نے اس سلسلے میں مرکز کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ:’ہم کچھ وقت دینا چاہتے ہیں، ہم نے آج ہی اخبار میں پڑھا ہے کہ آہستہ آہستہ لینڈ لائن اور براڈبینڈ کنکشن بحال کئے جا رہے ہیں، اس لیے ہم دیگر منسلک معاملات کے ساتھ ہی اس عرضی پر سماعت کریں گے۔ بنچ نے کہا کہ لینڈ لائن کام کر رہی ہیں، ہمیں بھی آج جموں کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا فون آیا تھا۔بنچ نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس معاملے کو سماعت کے لیے کب درج کیا جا سکتا ہے، ہم انتظامی حق میں اس کی تاریخ مقرر کریں گے۔ کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا کی جانب سے ایڈووکیٹ ورندا گروور نے بنچ سے کہا کہ ریاست میں صحافیوں کے لیے مواصلاتی ذرائع جلد بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنا کام آسانی طریقے سے کر سکیں۔ گروور نے کہا کہ میرا معاملہ پریس کی آزادی سے متعلق ہے اور اس کا آرٹیکل 370 سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ اس معاملے کو بھی اسی بنچ کو بھیجا جا سکتا ہے جس میں منگل کو اسی طرح کی درخواست پر غور کیا تھا۔ جسٹس ارون مشرا کی صدارت والے بنچ نے کئی پابندیاں لگانے کے مرکز اور جموں و کشمیر حکومت کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے منگل کو انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ حالات معمول بنانے کیلئے انہیں مناسب وقت دیا جانا چاہئے۔ اس بنچ نے سارے معاملے میں دو ہفتے بعد سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔گروور نے کشمیر ٹائمز کی درخواست پر جمعہ کو سماعت کے دوران کہا کہ میڈیا پر پابندی لگی ہیں اور مواصلاتی نظام بند ہونے کی وجہ سے اخبارات کی اشاعت ٹھپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف سرینگر سے ہی کچھ رپورٹنگ ہو رہی ہے اور جمہوریت کے چوتھے ستون کے طور پر پریس کے کردارکو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ انہوں نے کشمیر ٹائمز پڑھا ہے،جو جموں سے شائع ہو رہا تھا اور سارے میڈیا کو دیگر تمام مقامات سے کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔